حکومت نے پیٹرول سستا ہونے پر موٹر سائیکل مالکان کو دی جانے والی ‘فیول سبسڈی’ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد عوام کو دی جانے والی فیول سبسڈی اسکیم کو مستقل طور پر بند کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا، یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی حتمی منظوری سے کیا گیا۔
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت فیول سبسڈی کے حوالے سے نیشنل اسٹیرنگ کمیٹی کا ساتواں اجلاس ہوا، جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں موٹر سائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں اور پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو دی جانے والی پٹرولیم سبسڈی کے پورٹ فولیو کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ چونکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اب کافی حد تک نیچے آ چکی ہیں اور حکومت اس کمی کا پورا فائدہ پٹرول سستا کر کے پہلے ہی عوام تک پہنچا چکی ہے، اس لیے اب الگ سے فیول سبسڈی اسکیم کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچا۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھیں اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھی۔
اس بحران سے عوام کو بچانے کے لیے وزیراعظم نے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت موٹر سائیکل سواروں کو 100 روپے فی لیٹر کی سبسڈی دی جا رہی تھی جبکہ چھوٹے کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ امداد فراہم کی گئی۔
پبلک اور مال بردار ٹرانسپورٹ کو ایک ماہ کے لیے بھاری ماہانہ ریلیف دیا گیا، جس میں چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار اور مسافر بسوں کو 1 لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی گئی۔
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسٹیرنگ کمیٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ فیول سبسڈی کے اس پورے عمل کا ڈیٹا اور ریکارڈ مکمل طور پر محفوظ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بحران کے وقت ایسی پالیسیاں بنانے میں مدد مل سکے۔
اس اہم اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک اور تمام صوبوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






