اسکول کے طلبہ کے لیے (اے آئی) کے استعمال پر مکمل پابندی عائد

اوسلو: ناروے کی حکومت نے پرائمری اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر تقریباً مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں، بنیادی علمی مہارتوں اور سیکھنے کے عمل کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر اسٹوئر نے سرکاری طور پر اسکولوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں تعلیمی کارکردگی اور امتحانی نتائج میں تشویشناک کمی دیکھی جا رہی ہے۔

وزیراعظم جوناس گہر اسٹوئر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کم عمر بچوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار ان کے سیکھنے کے قدرتی اور بنیادی مراحل کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کی اولین ذمہ داری بچوں کو پڑھنا، لکھنا اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں سکھانا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کا غیر ضروری استعمال اس مقصد میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت گریڈ 1 سے گریڈ 7 تک کے طلبہ، جن کی عمریں 6 سے 13 سال کے درمیان ہیں، کو اسکول میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اسی سلسلے میں ناروے پہلے ہی اسکولوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے اور اساتذہ کو کلاس روم میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مزید اختیارات دینے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

نئے قواعد و ضوابط آئندہ تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ نافذ العمل ہوں گے، جو اگست کے آخری ہفتے میں شروع ہونے والا ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق ناروے کا یہ اقدام دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے تعلیمی اثرات پر جاری بحث میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close