خوشخبری ، تنخواہ دار طبقے کے لیےبجٹ میں بڑا ریلیف

حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ایک بڑا ریلیف دینے کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ملازمین کو مجموعی طور پر تقریباً 60 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، اس ریلیف کو ممکن بنانے کے لیے انکم ٹیکس کے موجودہ سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس مجوزہ پیکج کا بنیادی مقصد مختلف آمدنی والے گروہوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ہے، تاہم ان تمام تجاویز پر عمل درآمد کے لیے حتمی منظوری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔

اس نئی مجوزہ پالیسی کے تحت خاص طور پر ان ملازمین کے لیے ریلیف پیکج پر غور کیا جا رہا ہے جن کی ماہانہ آمدن 1 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ہے۔ ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار روپے تک کمانے والوں کے لیے ممکنہ طور پر کوئی ریلیف نہیں ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق، ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں پانچ فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد اس مخصوص سلیب میں ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس مجوزہ ریلیف سے ملک بھر کے چار لاکھ سے زائد ملازمت پیشہ افراد براہِ راست مستفید ہو سکیں گے اور ان کی ماہانہ بچت میں اضافہ ہو گا۔

دوسری جانب، زیادہ آمدنی والے طبقے کے لیے بھی مختلف ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے آمدن پر 29 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ماہانہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے آمدنی والوں کے لیے 32 فیصد ٹیکس کی شرح زیرِ غور ہے۔

ایسے ملازمین جن کی ماہانہ آمدن 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے بھی زیادہ ہے یا جن کی سالانہ آمدنی 70 لاکھ روپے سے متجاوز ہے، ان کے لیے 35 فیصد کی ٹیکس شرح کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی، سالانہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد کمانے والے امیر طبقے پر عائد اضافی سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس سے بڑے کاروباری اور تنخواہ دار افراد کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close