بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں مظاہرین کے 38 میں سے 35 نکات مانے گئے تھے۔
پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آزاد کشمیر مین 6 لاکھ مہاجرین کے حقوق کو ختم نہیں کیا جاسکتا، مانیٹرنگ کمیٹی بھی بنائی گئی کہ نکات پر کس حد تک کام ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات غیر منصفانہ ہیں، جو مطالبات ہیں اس کے تانے بانے کہیں اور ملتے نظر آرہے ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ بااختیار کمیٹی وہاں گئی، تمام چیزیں سیٹل ہونے کے باوجود دھمکایا جارہا ہے، احتجاج کی دھمکیاں نہیں دینی چاہیے، یہ دوسرے ملک کی پالیسی کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ واضح نظر آرہا ہے کہ مظاہرین معاملہ حل ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے، ان کے تانے بانے ہمسائے ملک سے مل رہے ہیں انہی کی پالیسی آگے بڑھائی جارہی ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مطالبات ماننے کے باوجود احتجاج کرنے کے کوئی اور ہی مقاصد ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم تنظیم قرار دی گئی تھی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد جموں و کشمیر انسداددہشت گردی ایکٹ 2014کےتحت تنظیم کو کالعدم قرار دیا اور صدر آزاد جموں وکشمیر نے تنظیم کو پروسکرائبڈ آرگنائزیشن قرار دینے کی منظوری دی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






