پیپلز پارٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی، اہم رہنما پارٹی چھوڑنے کیلئے تیار

: آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو بڑا جھٹکا لگ گیا، وزیر حکومت دیوان علی خان چغتائی کا مسلم لیگ ن میں شمولیت کا امکان ہے۔

 

آزاد کشمیر کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی کابینہ کے اہم رکن اور وزیرِ تعلیم دیوان علی خان چغتائی کی مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں سامنے آئیں۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ دیوان علی خان چغتائی کے ن لیگ میں شامل ہونے کے قوی امکانات ہیں، جس سے پی پی پی کی حکومت کو بڑا سیاسی دھچکا لگ سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دیوان علی خان چغتائی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ اور امیر مقام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ن لیگ آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، طارق فاروق اور نجیب نقی بھی شریک تھے، ان رابطوں کے بعد دیوان چغتائی نے ن لیگ کی جانب سے گرین سگنل ملنے پر وزارت سے استعفیٰ دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب، ان ملاقاتوں اور سیاسی جوڑ توڑ نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر بھی بحران پیدا کر دیا ہے، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے ان ملاقاتوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ضلع میں مشاورت کے بغیر ہونے والی اس بڑی سیاسی پیش رفت پر پارٹی قیادت کے سامنے سخت تحفظات رکھے ہیں۔

گزشتہ رات ن لیگ کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں نے راجہ فاروق حیدر کو منانے کی کوشش کی، تاہم ذرائع کے مطابق یہ کوششیں فی الحال ناکام رہی ہیں۔ شاہ غلام قادر اور طارق فاروق سمیت دیگر لیگی رہنما اب بھی انہیں قائل کرنے میں مصروف ہیں۔

دیوان علی خان چغتائی کا استعفیٰ اور وفاداری کی تبدیلی وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی کابینہ میں دراڑیں پڑنے کا پہلا بڑا اشارہ ہے۔ اگر یہ سیاسی تبدیلی مکمل ہوتی ہے تو آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے عددی اور سیاسی استحکام برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close