اسلام آباد (پی آئی ڈی) 6 مئی 2026: آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اسلام امن، اعتدال، رحمت اور برداشت کا دین ہے، جبکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، عالمی امن اور اسلام کے حقیقی پیغام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج مسلم امہ کے لیے ایک مضبوط، باوقار اور قابلِ اعتماد ستون بن چکا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار “پیغام پاکستان” کے زیر اہتمام منعقدہ “بنیان المرصوص کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں مولانا طاہر اشرفی، زمرد خان سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مذہبی رہنماؤں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اس عظیم الشان عالمی پیغامِ اسلام کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ فخر اور سعادت ہے۔ انہوں نے پاکستان علماء کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کونسل نے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اسلام کے حقیقی پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ انہوں نے فلسطین سے آئے معزز مہمانوں کا خصوصی خیر مقدم بھی کیا۔
انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی دور اندیش پالیسیوں، اقتصادی استحکام، دفاعی جدید کاری اور مؤثر سفارت کاری نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کو مضبوط کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قرآن مجید میں “بنیانِ مرصوص” کا تصور اتحاد، نظم اور استقامت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بھارتی جارحیت کے دوران پوری پاکستانی قوم، افواجِ پاکستان اور قیادت ایک مضبوط دیوار کی مانند متحد ہو گئی اور دشمن کو بروقت اور منہ توڑ جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر صبر، قربانی اور امن کی علامت ہے جبکہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بے گناہ نوجوانوں کے قتل، خواتین پر مظالم اور بنیادی آزادیوں کی پامالی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے فلسطین میں جاری مظالم کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور فلسطینی عوام پر ظلم پوری مسلم امہ پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام فلسطینی بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر مؤثر کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ علماء کا کردار اب صرف مسجد تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل دنیا، تعلیمی اداروں اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، تعلیم، سائنسی ترقی اور معاشی استحکام کے بغیر مسلم دنیا عالمی سطح پر اپنے حقوق کا مؤثر دفاع نہیں کر سکتی۔
وزیراعظم نے نوجوانوں کی کردار سازی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں بلکہ انسان میں اخلاق، ذمہ داری اور مثبت سوچ پیدا کرنا بھی اصل تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں علم ختم ہوتا ہے وہاں انتہا پسندی جنم لیتی ہے، اس لیے نوجوان نسل کو جدید علم کے ساتھ مضبوط کردار اور درست سمت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام اتحاد، بھائی چارے، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے۔ اختلافِ رائے فطری امر ہے، مگر اسے دلوں کی دوری کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو اپنے اختلافات بھلا کر امن، رحمت اور اتحاد کے پیغام پر متحد ہونا ہوگا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






