وزیر اعظم شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

 اینٹی کرپشن کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کو صاف پانی کمپنی ریفرنس سے ڈسچارج کر دیا۔

اینٹی کرپشن کورٹ کے جج جاوید اقبال وڑائچ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد علی عمران یوسف کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالت نے میاں بیوی کی بریت کی درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ جب مقدمہ قابل پیشرفت نہیں تو بریت کی درخواستوں کی ضرورت نہیں۔

جج نے قرار دیا کہ رابعہ عمران اور علی عمران یوسف کے مقدمے میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ واضح رہے کہ میاں بیوی پر اپنی بلڈنگ کرایہ پر صاف پانی کمپنی کو دینے اور سول نوعیت کا الزام تھا۔

عدالت نے کہا کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ دونوں میاں بیوی بے قصور ہیں، ان کے خلاف مقدمہ قابل پیشرفت نہیں ہے۔

احتساب عدالت نے 31 جنوری 2022 کو دیگر ملزموں کو ڈسچارج کیا تھا اور فرد جرم عائد نہیں کی۔ اس وقت نیب شواہد پیش نہیں کر سکا تھا اور اب مقدمہ اینٹی کرپشن کو منتقل ہو چکا ہے تو بھی شواہد نہیں ہیں۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے بتایا کہ صاف پانی کمپنی مقدمے میں رابعہ عمران اور ان کے شوہر کا کوئی کردار نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل یہ کیس احتساب عدالت میں زیر سماعت تھا تاہم نیب قانون میں ترمیم کے بعد مقدمہ اینٹی کرہشن کو بھجوا دیا گیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close