اسلام آباد وزیراعظم کے مشیر رانا ثناللہ نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے ہوا اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے لہذا ہمیں اندرونی طور پر انتشار نہیں پھیلانا چاہیے اور خبردار کیا کہ اگر جنگ مزید جاری رہتی ہے تو اس سے بھی برے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے
تاکہ عام آدمی کو فائدہ ہو اور وہ حالات کا مقابلہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں جنگ کی وجہ سے بڑھی ہیں، سب کو معلوم ہیکہ جنگ کس نے اور کس طرح شروع کی ہے لیکن اب چند لوگ ان قیمتوں میں اضافے سے پہلے کیے کفایت شعاری اقدامات اور تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کی جانب سے منظور کی گئی ٹارگٹڈ سبسڈی پر بات نہیں کرتے بلکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اس قسم کا احتجاج یا لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے۔ا نہوںنے کہا کہ اگر یہ اضافہ دنیا میں نہیں ہوا، دیگر ممالک کے حالات ان کے سامنے نہیں ہیں،
آسٹریلیا اور بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل دستیاب نہیں ہے لیکن یہاں تو موجودہ حکومت اور وزیراعظم کی دن رات کی محنت سے ایک دن بھی ایسا وقت نہیں آیا کہ پیٹرول پمپس پر لوگوں کی قطاریں لگی ہوں اور پیٹرول میسر نہیں آیا ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو کریڈٹ دینے کے بجائے اس معاملے کو پروپیگنڈا کر رہے ہیں حکومت کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے، آئیں اکٹھے ہوں اور حکومت کے ان اقدامات کو تحسین پیش کریں، حکومت کا ان معاملات کو سنبھالنے اور بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مددکریں اور تجاویز بھی دیں۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ وہ بین الاقوامی طور پر جنگ رکوانے کے لیے جو کردار ادا کر رہی ہے اس میں وہ مزید مضبوط ہو تاکہ ہو کامیاب ہو،
بجائے اس کے لوگوں کو گمراہ اور اکسا رہے ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، حکومت نے قیمتیں نہیں بڑھائیں، حکومت نے قیمتیں کم کرنے کی کوشش کی ہے اور غریب آدمی پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت کوشش کر رہی ہے یہ جنگ بند ہو، ایسے میں احتجاج اسرائیل کے خلاف ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں اپنے اندر تفریق اور افراتفری پیدا کرنے، اپنے آپ اور اپنے ملک کو کمزور کرنے کے بجائے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک کو مضبوط کریں اور اس وقت اپنے سیاسی مقاصد سے اپنے آپ کو ذرا اوپر اٹھا کر رکھیں اور عوام سے بھی اپیل کروں گا وہ اتحاد سے مقابلہ کریں۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ابھی تو قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اگر یہ جنگ اسی طرح دو مہینے یا 4 مہینے جاری رہتی ہے تو ہوسکتا ہے اس سے بھی برے حالات کا سامنا کرنا پڑے، صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو سامنا کرنا پڑے گا، ایسے حالات میں ہمیں مضبوط، پرعزم اور بہادر قوم کے طور پر ہم نے ان چیزوں کا مقابلہ کرنا ہے
اور ایک دوسرے کا گریبان نہیں پکڑنا ہے یا ایک دوسرے کو گالی دے کر تباہی کی طرف نہیں لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ ایسے لوگ جو اپنے ذاتی سیاسی اور گروہی مقاصد کی خاطر لوگوں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے جبکہ اس پورے معاملے میں حکومت مقامی اور بین الاقوامی طور پر مثبت سمت پر بہترین کوششیں کر رہی ہے، جنگ بند کرانے اور عام لوگوں کی مصیبت کم کرنیکی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کا رخ اپنے آپ کو کمزور کرنے کے بجائے براہ راست اس وجہ یا بیماری کی طرف کرنا چاہیے، جس نے پوری دنیا کو اس میں مبتلا کردیا ہے وہ یہ جنگ ہے، یہ جنگ جس نے شروع کی ہے اور جس اس کو بڑھاوا دیا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے، اس میں پاکستان یا حکومت پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔رانا ثناللہ نے کہا کہ ہمیں جس طرح گزشتہ برس معرکہ حق کے موقع پر ہم سب نے مل کر باوقار اور پرعزم قوم کے طور پر مظاہرہ کیا تھا اس موقع پر بھی ایسا ہی عزم کی ضرورت ہے، یہ بحران ہمارا پیدا کردہ نہیں بلکہ کسی اور کا ہے، ہم اس بحران کو ختم کرنے اور حل کرنے والوں میں سے ہیں اور اس بحران سے باوقار قوم بن کر نکلیں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






