پاکستان کو سستا تیل فراہم کرنے کی پیشکش

اسلام آباد میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان رابطہ کرے تو روس اسے سستا تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور پاکستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران روسی سفیر نے کہا کہ ایران جنگ کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے، تاہم روس پاکستان کو تیل کی فراہمی کے لیے آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کا اہم ستون ہے، تاہم تیل کی خریداری کے لیے پاکستان کی جانب سے روس سے کسی حالیہ رابطے کی اطلاع نہیں۔

البرٹ پی خوریف نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں یورپی ممالک روس کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور روس پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے نام نہاد “سایہ دار فلیٹ” کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں، حالانکہ بین الاقوامی قانون میں اس کا کوئی واضح تصور موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھلے سمندر میں تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنا سمندری ڈاکہ زنی کے مترادف ہے اور اس طرح کی پالیسیوں سے فوجی جھڑپوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جو عالمی تیل منڈی کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں اور اس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

روسی سفیر کا کہنا تھا کہ یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کو وہ صرف دو ریاستوں کی جنگ نہیں سمجھتے بلکہ اسے مغرب کے ساتھ بالواسطہ مقابلہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دباؤ کے باوجود پاکستان نے یوکرین بحران پر متوازن مؤقف اپنایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین تنازع عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کے نتائج آنے والے برسوں تک عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کریں گے، جبکہ موجودہ صورتحال میں میدان جنگ کا پلڑا روس کے حق میں جھکتا دکھائی دے رہا ہے۔ روس بحران کے حل کے لیے مذاکراتی راستے سے پیچھے نہیں ہٹا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close