ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے صاحبِ استطاعت ارکانِ پارلیمنٹ اور کابینہ اراکین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کرائیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی ریلیف کے لیے اراکین کو ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ وہ بطور وفاقی وزیر گزشتہ 24 ماہ سے اپنی خدمات بغیر کسی تنخواہ اور مراعات کے رضاکارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے ساتھی اراکین کو بھی اسی جذبے کے تحت اپنی تنخواہیں عطیہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ محبِ وطن ہیں اور اس قومی مقصد کے لیے اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت نے کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات کے تحت اعلیٰ سرکاری افسران کی تنخواہوں میں عارضی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تین لاکھ سے دس لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افسران کی مجموعی تنخواہ سے دو ماہ کے لیے پانچ فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے تنخواہ پر 15 فیصد، بیس لاکھ سے تیس لاکھ روپے پر 25 فیصد، اور تیس لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والے افسران کی مجموعی تنخواہ سے 30 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس کٹوتی سے حاصل ہونے والی رقم عوامی سہولت اور فلاحی اقدامات کے لیے استعمال کی جائے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






