کیا زکوٰۃ کے مال سے افطاری کی تقسیم جائز ہے؟ جانئے

رمضان کے مہینے میں روزہ داروں کے لیے افطاری کا انتظام کرنا ایک نیک عمل ہے، جبکہ اس کے لیے زکوٰۃ کا استعمال بھی شریعت کے مطابق جائز ہے، بشرطیکہ اصولوں کی پابندی کی جائے۔

سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ افطاری براہ راست مستحقین کے حوالے کی جائے۔ یعنی ہر فرد کے لیے افطاری کی اشیاء یا پیکٹ تیار کر کے اسے اس کے حوالے کیا جائے، تاکہ وہ اسے اپنا مال سمجھ کر استعمال کر سکے۔ اس طرح زکوٰۃ کے احکام پورے ہوں گے اور افطاری کا مقصد بھی حاصل ہو گا۔

اہم بات یہ ہے کہ افطاری حاصل کرنے والے افراد کو مستحق زکوٰۃ ہونا چاہیے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

“زکوٰۃ صرف ان کے لیے ہے جو غریب ہیں، یا وہ جو اس میں مشقت رکھتے ہیں…” (سورۃ التوبہ، آیت 60)

افطاری کا انتظام کرتے ہوئے خیال رکھا جائے کہ شریعت کے مطابق زکوٰۃ کے مال کو مستحق کو براہ راست اور مالک بناتے ہوئے دینا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں حدیث مبارکہ بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے:

“جو شخص اپنے مال میں سے زکوٰۃ دیتا ہے اور وہ مال مستحق تک پہنچ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔” (مسند احمد)

لہٰذا رمضان میں روزہ داروں کے لیے افطاری دینے کے لیے زکوٰۃ استعمال کرنے کے لیے:

– افطاری کو ہر مستحق فرد کے لیے الگ الگ اور براہ راست فراہم کیا جائے۔
– صرف وہی افراد اس افطاری کے اہل ہوں جو واقعی مستحق زکوٰۃ ہوں۔

اس طرح زکوٰۃ ادا بھی ہو جائے گی اور روزہ داروں کو افطاری فراہم کرنے کا مقصد بھی پورا ہو گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close