حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کے حوالے سے پہلا باضابطہ رابطہ

وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ہے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ سے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم کے مشیر نے اہم قومی امور پر سیاسی اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی تجویز دی جبکہ اپوزیشن لیڈر نے بامعنی مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے رانا ثناء اللہ کے ساتھ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کا معاملہ بھی اٹھایا۔

گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے بامقصد مذاکرات کے لیے حکومت کو مطالبات پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین کے اجلاس میں وفاقی حکومت سے تمام سیاسی فریقین اور عوام کو ساتھ ملا کر ٹھوس قومی حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اپوزیشن قائدین نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، ان کا ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے طبی معائنہ کروایا جائے، وکلا اور اہل خانہ تک رسائی پر پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔ انہوں نے طبی رپورٹس اہل خانہ سے چھپانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے ساتھ مجرمانہ غفلت سیاسی بحران کو سنگین بنا سکتی ہے۔

مزید مطالبہ کیا گیا کہ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے۔ اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رہنما صاحبزادہ حامد رضا کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں ملک بھر میں دہشت گردی میں اضافے پر تشویش اور قومی حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ سمیت دوست ممالک سے سفارتی رابطوں پر زور دیا گیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے۔

اجلاس میں قائدین نے کہا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں شدید کمی پر تشویش ہے، معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس ٹھوس منصوبہ نہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے گلف اسٹریم جیٹ کی خریداری پر تنقید کی جبکہ اعلان کیا کہ ماہرین کی مدد سے متبادل بجٹ پیش کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close