راولپنڈی (25 فروری، 2026)
الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً دس لاکھ بچے قبل از وقت پیدا ہوجاتے ہیں جن میں سے 45 فیصد تک کو ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی (آر او پی) کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ بصارت کی ایک بیماری ہے جو فوری علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل نابینائی کا سبب بن سکتی ہے۔
2013 میں آر او پی کے لیے خصوصی پروگرام کے آغاز کے بعد سے تقریباً 19 ہزار بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ٹرسٹ کے شعبہ امراض چشم اطفال و بھینگا پن کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی شرحِ بقا میں بہتری کے باعث آر او پی کے خطرے سے دوچار بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ آنکھ کی خون کی نالیاں حمل کے تقریباً تین ماہ بعد بننا شروع ہوجاتی ہیں اور مدت پوری ہونے پر مکمل ہوتی ہیں۔ قبل از وقت پیدائش سے خون کی نالیوں کی افزائش متاثر ہو سکتی ہے جس سے پردہ بصارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہر امراض چشم اطفال ڈاکٹر امجد کے مطابق پیدائش کے وقت ڈیڑھ کلوگرام سے کم وزن والے بچوں میں خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ آکسیجن کی مقدار کو متوازن رکھنے سے آر او پی کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔حال ہی میں سات ماہ کے جڑواں بچے، ابراہیم اور اسماعیل میں آر او پی کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹروں نے فوری علاج شروع کیا اور بیماری کو مستقل نقصان پہنچانے سے پہلے قابو میں کر لیا۔
ان کی والدہ نے کہا کہ بروقت علاج نے ممکنہ نابینائی سے بچا لیا اور مشکل وقت میں حوصلہ دیا۔ٹرسٹ نے مختلف ہسپتالوں کے ساتھ اسکریننگ، منتقلی اور سرجری کی سہولت کے لیے انتظامات کر رکھے ہیں جبکہ ٹیلی اوفتھالمولوجی سروسز کے ذریعے دور دراز علاقوں حتیٰ کہ بیرون ملک بھی مفت تشخیص اور رہنمائی مفت فراہم کی جارہی ہے۔ڈاکٹر امجد نے کہا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے آنکھوں کی اسکریننگ لازمی قرار دی جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






