پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس، رہنماؤں کی اکثریت نے اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کردی

کراچی(آئی این پی)بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس ہوا جس میں شرکاء کی اکثریت نے اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کردی۔شرکاء نے کہا کہ اگر سابق وزیر اعظم نواز شریف وطن واپس آکر لانگ مارچ کی قیادت کرتے

ہیں تو استعفوں پر غور کیا جاسکتا ہے، قبل ازوقت استعفوں سے حکومت کو اٹھارہویں آئینی ترمیم اور دیگر جمہوری قوانین کو ختم کر نے کا موقع مل جائے گا۔اجلاس میں قانونی ماہرین نے رائے دی کہ استعفے سینیٹ الیکشن میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتے، استعفوں کے بعد کا لائحہ عمل بھی واضح نہیں ہے، آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اعلامیے میں واضح تھا کہ استعفے مناسب وقت پر دیے جائیں گے۔علاوہ ازیں اجلاس میں ارکان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مقاصد کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومت مخالف مہم میں کسانوں، وکلا، تاجر اور ڈاکٹر تنظیموں سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمارا عزم ہے کہ ہمیشہ کی طرح تمام جمہوری قوتوں کوساتھ لیکرچلیں۔۔۔۔۔

حافظ حسین احمد نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف سٹینڈ لے لیا ن لیگ، پیپلز پارٹی کو نشانے پر رکھ لیا، سینئر پیچھے، لڑکے لڑکیاں معاملات چلاتے ہیں

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ شوکاز نوٹس کے بغیر پارٹی سے نکالنے کے اثرات ضرور مرتب ہوں گے، مولانافضل الرحمان کو

پیپلز پارٹی کی حقیقت آج معلوم ہوئی، کاش وہ ہماری بات مان لیتے۔ایک انٹرویو میں حافظ حسین احمد نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے موروثی سربراہ بننے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا، پارٹی میں موروثیت کے خلاف ہیں، دستور کے مطابق جو بھی پارٹی کا سربراہ بنے اس کا ساتھ دیں گے۔انھوں نے کہا کہ موروثی لیڈر شپ کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے حالات سب کے سامنے ہیں جہاں اہم ارکان پیچھے کھڑے ہوتے ہیں جب کہ معاملات لڑکے اور لڑکیاں دیکھتی ہیں۔جے یو آئی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی ویٹو پاور مریم نواز اور پیپلز پارٹی کی بلاول کے پاس ہے، مریم نواز کی کوالیفیکیشن صرف یہ ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی بیٹی ہیں۔حافظ حسین نے کہاکہ ماضی میں مولانا شیرانی کو مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں پارٹی سربراہ بنانے کی بات کرنے والے ساتھیوں کو خاموش کروایا گیا۔انھوں نے کہا کہ جے یو آئی کو ن لیگ، پی پی جیسی نہج پر پہنچایا جا رہا تھا، میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کی حقیقت آج معلوم ہوئی، کاش وہ ہماری بات مان لیتے تو اپنی پارٹی کو اتنا نقصان نہ پہنچتا۔حافظ حسین نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ جے یو آئی کو نقصان نہ پہنچے، الگ گروپ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ یورپی یونین ادارے نے پی آئی اے کو یورپ میں پروازوں کی اجازت دینے سے معذرت کر لی

کراچی(این این آئی)یورپی یونین سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کو یورپ میں پروازوں کی عارضی اور مشروطبحالی سے معذرت کر لی۔ پی آئی اے نے یورپی یونین سیفٹی ایجنسی سے پروازوں کی عبوری اجازت مانگی تھی۔پی آئی اے کو یورپ میں پروازوں کی عارضی اور مشروط بحالی کی اجازت نہ مل سکی۔ یورپی یونین سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کو یورپ میں پروازوں کی عارضی اور مشروط بحالی سے معذرت کر لی۔ ایاسا کے خط کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کیسرٹیفیکیشن اور نگرانی کی کارکردگی میں عدم اعتماد کا پہلو پایا جاتا ہے۔ یہی وجوہات یورپی کمیشن کے ذریعہ تحقیقات کے بعد پی آئی اے کے یورپ میں فضائی آپریشن کو معطل کرنے کا باعث بنیں۔ پی آئی اے پروازوں کی بحالی کیلئیسی اے اے پاکستان کا سیفٹی آڈٹ ناگزیر ہے۔پی آئی اے ذرائع کے مطابق یورپ اور برطانیہ کیلئے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی برقرار رہے گی۔ حکام نے ایاسا کی جانب سے لیٹر موصول ہونے کی تصدیق کردی۔۔۔۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں