قلت کے دوران بڑا ایل پی جی فراڈ بے نقاب

بھارت میں ایل پی جی گیس سلنڈرز کی فراہمی کے نظام میں سنگین بے ضابطگیوں اور مبینہ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جہاں صارفین کے نام پر سلنڈر ڈیلیور کا پیغام (ایس ایم ایس) دکھا کر درحقیقت انہیں فراہم نہیں کیا جا رہا جبکہ یہ سلنڈر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔

یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب بھارت میں سپلائی کی قلت کے دوران صارفین کی بڑی تعداد نے ایک ہی شکایت درج کرائی کہ ان کے موبائل پر سلنڈر کی ڈیلیوری کا ایس ایم ایس موصول ہوا، لیکن گھر پر کوئی سلنڈر نہیں پہنچا۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے جنوبی علاقے میں ایک 72 سالہ خاتون کے کیس نے اس پورے نظام پر سوالات اٹھا دیے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون نے 12 مارچ کو ایل پی جی ری فل بک کروایا تھا جو 14 مارچ کو ڈیلیور ہوا، تاہم 23 مارچ کو انہیں اچانک ایک ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ ان کے نام پر ایک اور سلنڈر ڈیلیور ہو چکا ہے، حالانکہ انہوں نے کسی دوسرے سلنڈر کا آرڈر نہیں دیا تھا۔

اس ڈیلیوری کے بعد ان کا نیا سلنڈر بکنگ سسٹم نے بلاک کر دیا کیونکہ سرکاری اصول کے مطابق ہر ڈیلیوری کے بعد 25 دن تک دوبارہ بکنگ ممکن نہیں ہوتی۔ نتیجتاً وہ اپنی ضرورت کے باوجود گیس سلنڈر حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

یہ مسئلہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ دہلی سمیت مختلف بھارتی ریاستوں میں ہزاروں صارفین اسی قسم کی شکایات کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی درجنوں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں صارفین کو ڈیلیورڈ ایس ایم ایس موصول ہوا مگر اصل میں سلنڈر ان تک نہیں پہنچا۔

تحقیقات کے مطابق اس فراڈ میں ڈسٹری بیوٹرز اور ڈیلیوری ایجنٹس کو کلیدی کردار ادا کرنے والے عناصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ سسٹم جو ایک وقتی پاس کوڈ کے ذریعے ڈیلیوری کی تصدیق کے لیے بنایا گیا تھا، اس کے باوجود بھی مبینہ طور پر بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق بکنگ کے لیے موبائل ایپس، اور دیگر طریقوں سے غیر قانونی رسائی حاصل کر کے سلنڈر کو ڈیلیورڈ ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

اس نظام میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا کر بڑی تعداد میں گھریلو سلنڈر بلیک مارکیٹ میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ایک 14 کلو گرام کا سلنڈر جو سرکاری قیمت پر تقریباً 914 بھارتی روپے میں دستیاب ہے، بلیک مارکیٹ میں چار ہزار سے پانچ ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔

اسی طرح چھوٹے کمرشل اور گھریلو صارفین کے لیے استعمال ہونے والے سلنڈرز بھی غیر قانونی نیٹ ورک کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے بعد سے اب تک 50 ہزار سے زائد غیر قانونی طور پر ذخیرہ اور فروخت کیے گئے سلنڈرز ضبط کیے جا چکے ہیں، جبکہ متعدد ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شکایات کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کمیٹیاں کارروائی کر رہی ہیں اور غلطی کرنے والے ڈسٹری بیوٹرز کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم متاثرہ صارفین کی بڑی تعداد اب بھی نظام کی پیچیدگیوں اور تاخیر کا شکار ہے۔

دوسری جانب متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ کئی کیسز میں جب وہ گیس ایجنسیوں پر پہنچتے ہیں تو انہیں مختلف وجوہات بتا کر ٹال دیا جاتا ہے یا اگلی بکنگ کا انتظار کرنے کا کہا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں سلنڈر بعد میں فراہم تو کیا جاتا ہے مگر تاخیر کئی ہفتوں تک پہنچ جاتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close