تہران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق ایرانی پیٹرولیم ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں سے ٹول ٹیکس کرپٹو کرنسی میں وصول کریگا۔حامد حسینی کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کا جائزہ لینا اور اس سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا ایران کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ آبنائے ہرمز سے سے کیا آ رہا ہے اور کیا جا رہا ہے؟ تاکہ ان دو ہفتوں میں ہتھیاروں کی منتقلی نہ ہو۔ یہاں سے ہر چیز گزر سکتی ہے، لیکن ہر جہاز کے لیے طریقہ کار میں وقت لگیگا اور ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر جہاز کو اپنے کارگو کی تفصیل ای میل کے ذریعے ایرانی حکام کو دینا ہوگی، جس کے بعد اسے ادا کی جانے والی فیس کے بارے میں بتایا جائے گا، تیل بردار جہازوں کی فیس ایک ڈالر فی بیرل ہوگی جب کہ خالی جہازوں کو مفت گزرنے کی اجازت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا جب ای میل موصول ہو جائے اور ایران جانچ مکمل کر لے تو جہازوں کو چند سیکنڈ کے اندر بٹ کوائن میں ادائیگی کرنا ہوگی۔خبر ایجنسی کے مطابق جنگ بندی کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سیگزرنے والے بحری جہازوں سے محصولات لیں گے، ایران ان فنڈز کو تعمیر نو کے لیے استعمال کریگا جب کہ عمان کے منصوبے غیر واضح ہیں۔خیال رہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے فیصلے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کرتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز خلیج میں موجود جہازوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ایرانی حکام سے اجازت لیے بغیر گزرنے کی کوشش کی تو ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے، اگر کوئی جہاز بغیر اجازت گزرنیکی کوشش کریگا تو اسے تباہ کر دیا جائیگا۔امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزرنا شروع ہوگئے تھے اور یونان اور لائبیریا کے 2 جہاز گزرے بھی تاہم بعد میں ایران نے اعلان کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں وہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت خلیج میں تقریبا 187 جہازوں پر 175 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لدی ہوئی ہیں، جو حالات بہتر ہونے پر روانہ ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق 300 سے 400 جہاز خلیج سے نکلنے کے منتظر ہیں۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی محدود تعداد میں وہی جہازگزر سکیں گے جنہیں ایران اجازت دے گا، جنگ سے پہلے یہ تعداد تقریبا 135 جہاز روزانہ تھی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






