ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک اعلیٰ مشیر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے اتحادی باب المندب کے سمندری راستے کو بند کر سکتے ہیں، جس طرح ایران نے خلیج ہرمز پر اثر انداز ہو کر بندش کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق آبنائے باب المندب سرخ سمندر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے اور عالمی تیل کی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھی جب ایران نے خلیج ہرمز کو عملی طور پر بند کیا، جہاں سے پرامن حالات میں دنیا کے تیل اور گیس کے 20 فیصد حصے کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری تھا۔
ایران کے سابق وزیر خارجہ اور تجربہ کار سفارت کار علی اکبر ولایتی نے اتوار کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ محاذ مقاومت کا متحدہ کمانڈ باب المندب کو ویسے ہی دیکھتا ہے جیسے ہرمز کو دیکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا دوبارہ غلطیاں دہرائے تو وہ جلدی سمجھ جائے گا کہ عالمی توانائی اور تجارت کو ایک ہی وار سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹی وی نے بعد میں اس انتباہ کی تصدیق کی تھی۔
یہ دھمکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بمباری کے ذریعے نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ ہرمز سوائے امریکا اور اسرائیل کے ان ممالک کے بحری جہازوں کے لیے کھلا ہے جو محفوظ گزرگاہ کی بات چیت کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق باب المندب کی بندش عالمی توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والا بحران کارخانوں، گھروں اور پٹرول پمپس تک محسوس کیا جائے گا۔ یہ راستہ یمن کے شمال مشرق اور جیبوتی و اریٹریا کے ہارن آف افریقہ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور سرخ سمندر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے۔
اس کی سب سے تنگ جگہ پر چوڑائی صرف 29 کلومیٹر ہے، جس کی وجہ سے آمد و رفت صرف دو چینلز تک محدود ہے اور یہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔
باب المندب عالمی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے کیونکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اسی کے ذریعے یورپ اور ایشیا کو تیل اور دیگر ایندھن برآمد کرتے ہیں۔ 2024 میں تقریباً 4.1 بلین بیرل خام تیل اور پراسیس شدہ مصنوعات اسی راستے سے گزریں، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 5 فیصد ہے۔
اگر خلیج ہرمز او باب المندب دونوں بند ہو جائیں تو دنیا کے تیل و گیس کی ایک چوتھائی فراہمی متاثر ہوگی اور عالمی تجارت کا تقریباً 10 فیصد بھی رک جائے گا۔
کیمبرج یونیورسٹی کی ماہر مشرق وسطیٰ ایلیزابیتھ کنڈال نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر سرخ سمندر کا راستہ بند ہو جائے تو یہ عالمی تجارت کے لیے ”ڈراونا منظرنامہ“ بن جائے گا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ حوثی شاید سعودی عرب یا دیگر بڑی طاقتوں کی جانب سے ردعمل کو اشتعال دلانا نہیں چاہتے۔
انہیں حالات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے خلیج ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنا یانبُو پورٹ استعمال کرتے ہوئے مشرق سے مغرب پائپ لائن کے ذریعے تیل نکالنا شروع کر دیا ہے، جو 1200 کلومیٹر لمبی ہے اور کمپنی آرامکو کے زیر انتظام ہے۔ مارچ 2024 تک یہ پائپ لائن مکمل صلاحیت یعنی 7 ملین بیرل فی دن پر تیل فراہم کر رہی تھی۔
باب المندب کی ممکنہ بندش عالمی توانائی کی قیمتوں اور تجارت پر انتہائی سنگین اثر ڈال سکتی ہے، اور اس سے پیدا ہونے والا بحران پہلے سے موجود عالمی اقتصادی مشکلات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






