ایران نے آبنائے پرمز پر مغرب کی دوغلے پن کی دھجیاں اُڑا دیں

ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق یورپی رہنماؤں کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مغربی ممالک پر بین الاقوامی قانون کے ’’دوہرے معیار‘‘ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

لندن میں ایرانی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مغربی ممالک کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بین الاقوامی قانون کا حوالہ صرف اپنے مفادات کے مطابق دیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کی خودمختار ریاستوں کے خلاف فوجی کارروائیاں اور رہنماؤں کے قتل جیسے اقدامات پر مغربی ممالک خاموش کیوں ہیں۔ ایرانی سفارتخانے نے مناب کے اسکول پر ہونے والے حملے کا حوالہ بھی دیا، جس میں 170 طلبہ کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔

مزید یہ کہ شہری انفراسٹرکچر، جیسے ادویات بنانے والی فیکٹریاں اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس پر ہونے والے حملوں پر بھی مغرب کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایرانی سفارتخانے نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے بیان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بین الاقوامی قانون صرف اسی وقت اہم سمجھا جاتا ہے جب وہ مغربی بیانیے کے مطابق ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ مغربی ممالک حملہ آوروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے متاثرہ فریق کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

یہ ردعمل کاجا کالاس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر 40 سے زائد ممالک کے اجلاس کے انعقاد کو سراہا تھا۔ کالاس نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی گزرگاہ ہے اور ایران کو وہاں سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

کالاس نے بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے بحری مشن کو وسعت دینے اور اقوام متحدہ کی جانب سے خوراک اور کھاد کی ترسیل کے لیے انسانی راہداریوں کو برقرار رکھنے کی حمایت بھی کی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے حوالے سے بیانات میں شدت آئی، تاہم ان حملوں کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کیے، جن میں فوجی اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close