ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے بعد اہم عہدوں پر مزید برطرفیوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے اعلیٰ حکام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
خصوصاً اٹارنی جنرل پام بونڈی کی برطرفی کے بعد کابینہ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، اور کئی سینئر افسران اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند نظر آ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ برطرفیوں کی فہرست میں کاش پاٹیل، سیکرٹری آرمی ڈینئیل ڈرسکول اور وزیر محنت شاویز دریمر کے نام بھی شامل ہیں، تاہم ان فیصلوں کے بارے میں ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
اس کے علاوہ گزشتہ ماہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نیوم کو بھی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے، جس کے بعد حکومتی حلقوں میں مسلسل تبدیلیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلیاں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور حکومتی ڈھانچے کو اپنے وژن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں، تاہم اس عمل نے حکومتی استحکام اور فیصلہ سازی کے حوالے سے سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






