امریکی صدر کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمتیں پھر سے آ سمان چھونے لگیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوگیا۔

امریکی خام تیل چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کے دام 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ برطانوی برینٹ بھی 105 ڈالر سے اوپر ٹریڈ کرنے لگا۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو تیل کی قیمتیں ڈیڑھ سو ڈالر فی بیرل تک جانے کا بھی خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور کارروائیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران کے تیل کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے، اور اہداف کے حصول تک آپریشن ایپک فیوری جاری رہے گا۔ ایران کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد راستہ فراہم کرتی ہے، بدستور کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو کھولنے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی، جس سے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close