اسلام آباد:
پاکستان کی عالمی اہمیت سے خائف بھارت دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن گیا، اور پاکستان و خطے کے امن کے خلاف اس کی سازش بے نقاب ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر خفیہ ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے نام پر پاکستان کے خلاف منظم اور اسٹریٹجک پروپیگنڈا آپریشن شروع کیا۔
جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت پھیلانے کا بیانیہ بنایا گیا، اور ڈس انفارمیشن مہم کا آغاز INN Iran News اور Iran TV جیسے گھوسٹ ایکس اکاؤنٹس سے ہوا۔
پاکستان پر امریکہ کے لیے تیل ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر نفرت انگیز پروپیگنڈا پھیلایا گیا، اور ایرانی شناخت رکھنے والے متعدد اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔ بیانیہ بنانے والے اکاؤنٹس بھارت جبکہ پروپیگنڈا پھیلانے والے اکاؤنٹس افغانستان سے آپریٹ ہو رہے تھے۔
پاکستان کے خلاف مصنوعی ایرانی ردعمل افغان آپریٹرز کے ذریعے پھیلایا گیا، اور افغان نیٹ ورک کو بطور پروولیفیٹر استعمال کرنے کا ثبوت بھی سامنے آیا۔ بھارتی ڈس انفارمیشن حملے کا مقصد پاکستان کے امن کوششوں کو متنازعہ بنانا تھا۔
اس پورے آپریشن کے ماسٹر مائنڈ اکاؤنٹس بھارتی نکلے، اور بیانیہ سازی، کنٹرول اور اسٹریٹجک ہدایات بھارتی اکاؤنٹس کے ذریعے دی گئی۔ سازش میں Times of Iran News مرکزی پروپیگنڈا ہب کے طور پر سامنے آیا، اور بھارت سے آپریٹ ہونے والا پلیٹ فارم عالمی سطح پر جھوٹ پھیلاتا رہا۔
ماہرین کی تحقیقات میں Initiator → Proliferator → Amplifier ماڈل کے تحت مکمل انفارمیشن وار بے نقاب ہوئی۔ مرحلہ وار حکمت عملی سے جھوٹ کو سچ کے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی، اور پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ دکھانے کا بیانیہ بنایا گیا، جس کا مقصد عالم اسلام میں بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ڈس انفارمیشن حملہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔ بھارت صرف پاکستان نہیں بلکہ امریکہ، ایران اور پورے خطے کے خلاف سرگرم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان کا مربوط انفارمیشن وار خطے کے امن، سفارتکاری اور استحکام پر براہ راست حملہ ہے۔ بھارتی سازش بے نقاب ہونے سے پاکستان کا عالمی کردار ایک بار پھر نمایاں ہوا۔
ماہرین کے مطابق ثابت ہو گیا ہے کہ مذاکرات کے ہر دشمن کے خلاف پاکستان اور ادارے پوری طرح چوکنا ہیں، اور عوام کو بھی اپنی حکومت اور اداروں سے بداعتمادی پیدا کرنے کی ہر سازش سے ہوشیار رہنا ہوگا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






