واشنگٹن میں کابینہ اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کے ڈرونز، نیوی، فضائیہ اور ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا گیا جبکہ مواصلاتی نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اب امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ڈیل کیلئے بے تاب ہے، تاہم امریکا کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا معاہدہ کرنا بھی ہے یا نہیں۔
انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ماضی کا معاہدہ بدترین تھا۔
ٹرمپ کے مطابق اگر امریکا کارروائی نہ کرتا تو ایران دو ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ جاتا، جبکہ بی-ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ایرانی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا، جبکہ نیٹو کو “کاغذی شیر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکا کی کوئی مدد نہیں کی۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ختم کرے، اور امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






