مشرق وسطیٰ جنگ پر برطانیہ کا اہم مؤقف سامنے آگیا

لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں لیکن اسے جلد بحال کرنا ضروری ہے، اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک مستند اور قابلِ عمل منصوبے کی ضرورت ہے، تاہم اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں جبکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اس تنازع کے تیز ترین حل کے لیے کام کرتا رہے گا اور وقت بتائے گا کہ اس جنگ کے بارے میں برطانیہ کا مؤقف درست تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close