امریکی بحریہ نے شپنگ اور تیل کی صنعت کے نمائندوں کو بریفنگ میں واضح کر دیا ہے کہ فی الحال وہ جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تین اہلکاروں نے بتایا کہ ایران پر حملوں کے آغاز سے ہی امریکی بحریہ تقریباً روزانہ ہی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے فوجی تحفظ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کر رہی ہے ۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اس لیے بحری جہازوں کو فوجی حفاظت دینا ممکن نہیں ۔
امریکی حکام کا یہ موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سابقہ بیان سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا جہازوں کو بحری تحفظ فراہم کرے گا تاکہ اس اہم گزرگاہ سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے ۔ اس سے قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایکس پر پوسٹ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے ایک تیل بردار جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزارا ہے، لیکن بعد ازاں انہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرولین لیوٹ نے تصدیق کی کہ اب تک کسی بھی تیل بردار جہاز کو فوجی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔
امریکی فوج کے اعلیٰ ترین جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے اس بات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے کہ اگر حکم دیا جائے تو کیسے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارا جا سکتا ہے ۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ایران پانی میں بارودی سرنگیں بچھانے، میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کے ذریعے کثیر سطحی خطرات پیدا کر سکتا ہے ۔
خیال رہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی تجارت تقریباً معطل ہو چکی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں ۔ تاہم صدر ٹرمپ کے ممکنہ جنگ بندی کے اشاروں کے بعد قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






