زور دار دھماکہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب نے پہلی مرتبہ ایران کو براہ راست سخت ردعمل کی تنبیہ کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے تہران کو واضح کر دیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ریاض اس کا بھرپور جواب دے گا ۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ وہ اب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم اگر سعودی سلامتی یا توانائی کے مراکز پر حملہ ہوا تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

سعودی عرب کا یہ موقف سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا گیا ۔ اس گفتگو میں سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ نہ تو ریاض اور نہ ہی دیگر خلیجی ممالک نے امریکہ کو ایران پر فضائی حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک خلیجی ممالک نے ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ تاہم اگر خطے میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی عرب امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے ۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور مفادات ہیں ۔ ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے اس کے جواب میں مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ختم کیا جائے اور خلیجی ممالک واشنگٹن کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ بند کریں ۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سے سعودی عسم ریاض اپنے سفیر کے ذریعے تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اپنے خدشات اور پیغام پہنچا رہا ہے ۔ تاہم اس خبر پر اب تک سعودی عرب یا ایران کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے خطے کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے ۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close