آیت اللّٰہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دنیا میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ ایران کا نیا سپریم لیڈر کون ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جانتے ہیں خامنہ ای کے بعد ایران میں کون قیادت کے احکامات جاری کر رہا ہے، تاہم انہوں نے نئے ممکنہ ایرانی رہنما کا نام ظاہر نہیں کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ٹی وی کو فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کون احکامات جاری کر رہا ہے، لیکن انہوں نے نئے ایرانی رہنما کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایسا شخص ہے جسے وہ ایران کی قیادت میں دیکھنا چاہیں گے تو ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایسا ممکن ہے اور ایران میں فیصلہ سازی کرنے والے زیادہ تر افراد پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ طویل بھی ہو سکتی ہے اور چند دنوں میں بھی ختم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق حملوں کے بعد ایران کو سنبھلنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے عزائم ترک نہیں کیے، اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر کارروائی کی گئی۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ ایرانی قیادت امریکی انٹیلی جنس اور جدید ٹریکنگ نظام سے بچ نہیں سکی اور اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






