ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جبکہ عراق نے بھی فوری طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
عراقی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق اربیل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور تمام پروازیں روک دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے کے فوراً بعد ایران نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت تہران میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ متعدد میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کے علاقے میں گرے۔
رپورٹس کے مطابق تہران کے مضافات سمیت مختلف مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہر میں افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی سے باز رہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب خطے میں ممکنہ ردعمل اور آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





