تہران: ایران میں خواتین پر عائد مختلف سماجی اور قانونی پابندیوں کے باوجود حقوقِ نسواں کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد جاری تھی، جس کے نتیجے میں اب ایک اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
ایرانی حکومت نے ٹریفک قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے خواتین کو آزادانہ طور پر موٹرسائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت خواتین نہ صرف موٹرسائیکل چلانے کی تربیت حاصل کر سکیں گی بلکہ امتحان دے کر باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل کر سکیں گی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ترمیم کئی دہائیوں پرانے ٹریفک قوانین میں کی گئی ہے، جس پر ایرانی صدر کے نائبِ اول محمد رضا عارف نے دستخط کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں اگرچہ قانونی طور پر خواتین کے موٹرسائیکل چلانے پر مکمل پابندی نہیں تھی، تاہم عملی طور پر پولیس خواتین کو لائسنس جاری نہیں کرتی تھی، جس کے باعث یہ حق محض کاغذی حد تک محدود تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کو شدید معاشی دباؤ اور معاشرتی احتجاجات کا سامنا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ اصلاحات کی جانب ایک علامتی مگر اہم قدم ہے، جو مستقبل میں مزید سماجی تبدیلیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






