متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بشمول دبئی میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹس، تبصرے یا کسی بھی قسم کا توہین آمیز مواد شیئر کرنے پر سخت قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کسی فرد، ادارے یا کمپنی کے خلاف توہین آمیز مواد پر 2.5 لاکھ سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ دبئی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ کسی شخص کی توہین یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر کارروائی ہوگی اور بعض کیسز میں ایک سال یا اس سے زیادہ قید بھی ہو سکتی ہے۔
بعض صورتوں میں جرمانہ اور قید دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جا سکتی ہیں۔ اگر توہین آمیز مواد دوبارہ شیئر کیا جائے تو یہی سزا لاگو ہوگی۔ یہ قانون صرف پبلک پوسٹس تک محدود نہیں بلکہ واٹس ایپ، پرائیویٹ چیٹس یا ڈیلیٹ کی گئی پوسٹس پر بھی نافذ ہے، اور اسکرین شاٹس ثبوت کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔
دبئی پولیس اور پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے بار بار الرٹس جاری کیے گئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے سے پہلے سوچیں، اور گزشتہ برسوں میں متعدد افراد کو 50,000 درہم تک کے سول جرمانے بھی ادا کرنے پڑے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






