سوشل میڈیا پر پابندی، پارلیمنٹ نے منظوری دے دی

ڈنمارک اور آسٹریلیا کے بعد اب برطانیہ میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کیے جانے کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں اپوزیشن جماعت کی جانب سے پیش کیے گئے بل کو ہاؤس آف لارڈز کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے قانون سازی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے اس حوالے سے ووٹنگ کے ذریعے حمایت کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں نافذ کیے گئے قانون کو اپنائے۔

کنزرویٹو پارٹی کے رکن جان نیش کی پیش کردہ ترمیم بدھ کے روز ایوانِ بالا میں منظور کی گئی، جس کے حق میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کر رہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کے پابند ہیں، تاہم حکومت قانون سازی سے قبل موسمِ گرما میں متوقع مشاورت کے نتائج کا انتظار کرنا چاہتی ہے۔

حکومتی جماعت اور اپوزیشن دونوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ برطانیہ بھی آسٹریلیا کی طرز پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا ایپس پر پابندی عائد کرے، جہاں دسمبر سے یہ قانون نافذ ہو چکا ہے۔ متعدد مشہور شخصیات نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین اکیلے سوشل میڈیا کے منفی اثرات کا مقابلہ نہیں کر سکتے، جبکہ بعض تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مکمل پابندی تحفظ کا غلط احساس پیدا کر سکتی ہے۔ ایک عوامی سروے کے مطابق برطانیہ کے 74 فیصد عوام اس پابندی کے حق میں ہیں، جبکہ آن لائن سیفٹی قانون کے تحت نقصان دہ مواد کے لیے عمر کی تصدیق کا محفوظ نظام لازمی قرار دیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close