مصر، ترکیہ سمیت کئی ممالک نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جبکہ متعدد یورپی ممالک نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے بعد ترکیہ، مصر، آذربائیجان اور اسرائیل نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ دوسری جانب فرانس، اٹلی، سوئیڈن اور ناروے نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی عالمی رہنماؤں پر مشتمل بورڈ آف پیس کا حصہ بن چکے ہیں۔
جنگ کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ اب تک 20 سے 25 عالمی رہنما غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران سے بھی رابطہ کیا گیا تھا تاہم اب بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق بورڈ آف پیس میں مستقل اور طویل مدت کی رکنیت کے لیے اراکین کو ایک ارب ڈالر تک ادائیگی کرنا ہوگی۔ مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں صدر ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مصر بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرتا ہے اور اس حوالے سے تمام قانونی اور آئینی تقاضے پورے کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
مصری بیان میں غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے میں بورڈ آف پیس کے مشن کی مکمل حمایت کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سوئیڈن اور ناروے نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے اور بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوں گے۔ سوئیڈن کا کہنا ہے کہ اب تک پیش کیے گئے مسودے کی بنیاد پر شرکت ممکن نہیں جبکہ ناروے کے مطابق مجوزہ نکات پر امریکا کے ساتھ مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
متعدد ممالک کے فیصلوں کے بعد غزہ بورڈ آف پیس عالمی سطح پر ایک متنازع مگر اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






