چینی ریسٹورنٹ میں دھماکہ،7 افراد مارے گئے

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے انتہائی محفوظ تصور کیے جانے والے تجارتی علاقے شہرِ نو میں واقع ایک چینی ریسٹورنٹ میں خوفناک خودکش دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک چینی باشندے اور چھ افغان شہریوں سمیت کم از کم 7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس ترجمان خالد زدران کے مطابق یہ دھماکا ریسٹورنٹ کے کچن کے قریب ہوا جس میں ایک بچے سمیت 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ دفتری عمارتوں، شاپنگ کمپلیکس اور سفارت خانوں کی موجودگی کے باعث سخت حفاظتی حصار میں رہتا ہے تاہم حملہ آور وہاں پہنچنے میں کامیاب رہا۔

دھماکے کا نشانہ بننے والا یہ ریسٹورنٹ چینی نوڈلز کے لیے مشہور تھا جسے چینی نژاد مسلم شہری عبدالمجید، ان کی اہلیہ اور ایک افغان شراکت دار عبدالجبار محمود مشترکہ طور پر چلا رہے تھے۔ یہ ریسٹورنٹ خاص طور پر کابل میں مقیم چینی مسلم برادری کو خدمات فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والے چینی شہری کی شناخت ایوب کے نام سے کی گئی ہے جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

شدت پسند تنظیم داعش (ISIS) کی افغان شاخ نے اس حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کر لی ہے اور اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ داعش کی خبر رساں ایجنسی ‘اعماق’ کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے اب چینی شہریوں کو اپنے اہداف کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ گروپ نے اس حملے اور مستقبل کی کارروائیوں کی وجہ چینی حکومت کی جانب سے سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے مبینہ مظالم اور ان کی مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کو قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور الجزیرہ جیسی بین الاقوامی نشریاتی ایجنسیاں طویل عرصے سے بیجنگ پر اویغور نسل کے مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر زیادتیوں کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ اویغور چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں آباد تقریباً ایک کروڑ نفوس پر مشتمل مسلم اقلیت ہے جن کے حقوق کی پامالی پر عالمی سطح پر آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ دوسری جانب چین ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اسے مغربی ممالک کا پروپیگنڈا قرار دیتا ہے، تاہم اب اس تنازع نے کابل میں مقیم چینی شہریوں کو بھی براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close