خوفناک آتشزدگی ،19 افراد ہلاک، ایمرجنسی نافذ

چلی میں بے قابو جنگلاتی آگ نے متعدد آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق نوبلے اور بیوبیو کے علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے جاری آگ کے باعث 50 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ علاقے دارالحکومت سانتیاگو سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں، جہاں تیز ہواؤں اور شدید گرمی نے آگ کو مزید بھڑکا دیا۔

حادثے کے بعد کی ویڈیوز میں جلے ہوئے مکانات، تباہ شدہ گاڑیاں اور سنسان گلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ میئر روڈریگو ویرا کے مطابق اب تک زیادہ تر ہلاکتیں پینکو میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ قریبی بندرگاہی قصبے لیرکین میں بھی صورتحال نہایت سنگین رہی، جہاں رہائشیوں کے مطابق آگ چند سیکنڈز میں پھیل گئی۔

57 سالہ الیخاندرو اریڈوندو نے بتایا کہ متعدد افراد نے سمندر کنارے بھاگ کر اپنی جان بچائی، جبکہ تقریباً کچھ بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ صدر گیبریل بورک نے نوبلے اور بیوبیو میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مسلح افواج کو امدادی کارروائیوں میں شامل کرنے کی اجازت دے دی۔

تقریباً 4 ہزار فائر فائٹرز شدید گرمی کے موسم میں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر متاثرہ شہر کونسیپسیون پہنچے اور فائر فائٹنگ آپریشنز کی نگرانی کی۔ صدر بورک نے شدید متاثرہ علاقوں میں رات کے وقت کرفیو کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صورتحال انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر منتخب خوسے انتونیو کاسٹ سے ملاقات کر کے آگ کی صورتحال پر معلومات کا تبادلہ کریں گے۔

نیشنل سروس فار ڈیزاسٹر پریوینشن اینڈ ریسپانس کی ڈائریکٹر الیسیا سیبریان کے مطابق زیادہ تر انخلا بیوبیو کے قصبوں پینکو اور لیرکین میں کیا گیا، جہاں مجموعی آبادی تقریباً 60 ہزار ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور تیز ہوائیں فائر فائٹرز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کریں گی۔

ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں جنوبی وسطی چلی میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور شدید موسمی حالات کا نتیجہ ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close