مظاہروں میں شدت، فوج کو تیار رہنے کا حکم

واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی ریاست مینی سوٹا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں کی لہر میں مزید شدت آ گئی ہے جس کی وجہ سے ریاست بھر میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ مینی سوٹا کے مختلف شہروں میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین شدید کشیدگی کا سلسلہ برقرار ہے اور کئی علاقوں سے سڑکوں کی بندش کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی خبریں بھی مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔

ریاست میں بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں اور پندرہ سو فوجیوں کو مینی سوٹا میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان فوجی اہلکاروں کو کسی بھی غیر معمولی یا ہنگامی صورت حال پیدا ہونے پر ریاستی حکام کی معاونت کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پینٹاگون نے ڈیوٹی پر موجود دیگر فوجی اہلکاروں کو بھی الرٹ کر دیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ فوری طور پر ردعمل دینے کے قابل ہوں۔

سرکاری حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ریاست کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں ریاستی انتظامیہ کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔ دوسری جانب مقامی حکام نے عام شہریوں سے پرامن رہنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی درخوست کی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی و مقامی تنظیموں نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ کشیدہ حالات کے باعث مینی سوٹا میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیے جانے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی ریاست مینی سوٹا میں یہ احتجاجی مظاہرے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا آغاز منیاپولس میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کے بعد ہوا تھا جس میں آئس کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک امریکی خاتون شہری رینی گڈ کی ہلاکت واقع ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں گرین لینڈ اور ڈنمارک میں بھی امریکی صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں جن میں وہاں کے وزرائے اعظم نے بھی شرکت کی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close