وینزویلا پر حملے کے بعد امریکی جارحیت پر روس کا بیان سامنے آ گیا

روسی فیڈریشن کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کی وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے باعثِ تشویش قرار دیا ہے۔ روسی ترجمان کے مطابق ان اقدامات کو جائز ٹھہرانے کے لیے پیش کیے گئے جواز ناقابلِ قبول ہیں۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نظریاتی دشمنی نے عملی سفارت کاری اور اعتماد پر مبنی تعلقات پر غلبہ پا لیا ہے، لہٰذا موجودہ صورتحال میں مزید کشیدگی کو روکنے اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ روس نے فریقین کے درمیان مذاکرات پر مبنی حل کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لاطینی امریکہ کو امن کا خطہ برقرار رہنا چاہیے اور وینزویلا کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی بیرونی یا فوجی مداخلت کے بغیر اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔ روس نے وینزویلا کے عوام اور بولیویرین قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے جو ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے علاوہ، پی ٹی اے نے درآمد کردہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی ہے۔

روس نے وینزویلا اور دیگر لاطینی امریکی رہنماؤں کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا کہا گیا ہے۔ کراکس میں روسی سفارت خانہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور مقامی حکام سمیت وہاں موجود روسی شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ اب تک کسی روسی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ دریں اثنا، اوباڑو میں شرپسند عناصر کی جانب سے تالاب میں زہر ڈالنے سے سینکڑوں مچھلیاں ہلاک ہو گئی ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close