امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کیا گیا یا انہیں قتل کیا گیا تو امریکا ان کے تحفظ کے لیے مداخلت کرے گا۔
سوشل ٹروتھ اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ہونے والے پُرامن احتجاج کو طاقت سے دبانے کی صورت میں امریکا خاموش نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم مداخلت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔” ٹرمپ کے اس بیان پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے امریکی دھمکی کو خطے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہوگی۔
علی لاریجانی نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ ایسے بیانات کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی دنوں سے مہنگائی، معاشی دباؤ اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے دوران ایرانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں کم از کم 6 مظاہرین ہلاک جبکہ 30 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






