ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے ترک پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ترکیے نے اسرائیل سے تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں،
ساتھ ہی ترک اور اسرائیلی بحری جہازوں کے ایک دوسرے کی بندرگاہوں پر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور اسرائیلی طیاروں کے لیے ترکیے کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام فلسطینیوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں اور ترکیے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کرے گا، چاہے وہ کسی بھی جانب سے ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام غزہ میں جاری نسل کشی اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کے خلاف ترکیے کا ردعمل ہے، اور امریکا کی غیر مشروط حمایت نے اسرائیلی قبضے اور دو ریاستی حل کو نقصان پہنچایا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں