امریکی حکومت نے بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ (یو ایس ایڈ) کو مکمل طور پر بند کرنے اور اس کے تمام غیر ملکی دفاتر ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ہزاروں امریکی سفارت کاروں، مقامی ملازمین اور سرکاری اہلکاروں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جمعے کے روز امریکی کانگریس کو اطلاع دی گئی کہ یو ایس ایڈ کے تمام ملازمین کو ستمبر تک برطرف کر دیا جائے گا اور اس کے کئی کام اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں ضم کر دیے جائیں گے۔یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکا فرسٹ پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کی نگرانی ان کے مشیر ایلون مسک کر رہے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے اس فیصلے کو “ادارے کا مکمل خاتمہ” قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، 10 ہزار سے زائد غیر ملکی شہریوں کو برطرفی کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جن کا اطلاق اگست میں ہوگا۔ اس کے علاوہ، امریکی سفارت کاروں اور سرکاری ملازمین کو بھی نوٹس بھیج دیے گئے ہیں، جو گزشتہ 60 سالوں سے یو ایس ایڈ کے تحت کام کر رہے تھے۔
ٹرمپ اور ایلون مسک نے یو ایس ایڈ پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے اسے “کرپٹ” اور “بائیں بازو کے انتہا پسندوں” کا ادارہ قرار دیا تھا۔ اس بندش کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زائد امدادی پروگرام بند ہو چکے ہیں، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔واضح رہے کہ یو ایس ایڈ دنیا بھر میں 60 سے زائد ممالک میں امدادی مشنز چلاتا رہا ہے، جن میں انسانی امداد، صحت اور ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں