مصر کے ساحلی شہر الغردقۃ میں ایک سیاحتی آبدوز ڈوبنے سے چھ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق آبدوز میں 45 غیر ملکی سیاح سوار تھے، جن میں سے 29 کو ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا۔ریڈ سی گورنریٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آبدوز سیاحتی تفریحی علاقے کے ایک ساحل کے قریب سفر کر رہی تھی۔ تاہم، فوری طور پر اس کے ڈوبنے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں میڈیا کو بریفنگ دینے کی اجازت نہیں تھی۔تاہم، مصر میں روسی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ الغردقہ کے قریب ڈوبنے والی آبدوز میں سوار تمام سیاح روسی شہری تھے۔
فیس بک پر جاری ایک بیان میں سفارت خانے نے بتایا کہ آبدوز میں 45 مسافر موجود تھے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔سفارت خانے کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ساحل سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔علاقے میں جاری تنازعات کے باعث کئی سیاحتی کمپنیوں نے بحیرہ احمر میں سفر کو محدود یا معطل کر دیا ہے۔
بحیرہ احمر میں جمعرات کے روز ڈوبنے والی سندباد آبدوز کئی سالوں سے الغردقۃ کے مشہور سیاحتی مقام پر سیاحوں کی تفریحی سیر کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ اس آبدوز میں ماضی میں سفر کرنے والوں میں یوٹیوب چینل ”ولیئمز اسٹریٹ فیملی ڈائریز“ کے ممبران بھی شامل تھے، جنہوں نے پانچ ماہ قبل ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں آبدوز کے اندرونی مناظر دکھائے گئے تھے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسافر ایک لمبی کیبن میں دونوں طرف نشستوں پر بیٹھے ہیں اور بڑے گول کھڑکیوں سے زیر آب مناظر دیکھ رہے ہیں۔ ایک منظر میں شیشے کے بالکل قریب مچھلیوں کو تیرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، جبکہ کاک پٹ میں دو عملے کے ارکان کنٹرول سنبھالے ہوئے نظر آتے ہیں، جہاں مختلف سوئچز اور مانیٹرز کے ساتھ سمندر کا واضح سامنے کا منظر موجود ہے۔
سندباد آبدوز سیاحوں کو تین گھنٹے کی زیرِ آب سیر کی سہولت فراہم کرتی تھی، جس میں وہ بحیرہ احمر کے خوبصورت مرجان کی چٹانوں کا نظارہ کر سکتے تھے۔یہ آبدوز الغردقۃ کے قریب کام کر رہی تھی، جو برطانوی، جرمن اور دیگر بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ایک مشہور تفریحی مقام ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں