محکمہ موسمیات نے پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان میں 6 سے 9 اپریل، خیبر پختونخوا میں 5 سے 9 اپریل اور بلوچستان میں 5 سے 7 اپریل کے دوران گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ سندھ میں 6 تا 7 اپریل ہلکی تا معتدل بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں 9 اپریل تک بارش اور ژالہ باری کا سبب بنے گا۔ پنجاب اور اسلام آباد میں 6 سے 9 اپریل کے دوران آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے، جس میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم اور لاہور میں بھی بارش کی توقع کی جا رہی ہے۔ گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں بھی بارش اور تیز ہواؤں کے امکانات موجود ہیں۔
خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 5 سے 9 اپریل کے دوران آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس میں پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، کوہاٹ، کرک، ہنگو، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بٹگرام، شانگلہ، کوہستان، دیر بالا، دیر زیریں، سوات، مالاکنڈ، چترال اور باجوڑ شامل ہیں، جہاں بھی بارش اور تیز ہواؤں کے امکانات موجود ہیں۔
پیشگوئی کے مطابق مغربی ہواوں کا ایک اور سلسلہ 5 اپریل کی رات سے جنوبی بلوچستان میں داخل ہوگا، اور 5 سے 7 اپریل کے دوران بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلات، خضدار، لسبیلہ، گوادر، تربت اور پنجگور میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان اور کشمیر میں 6 سے 9 اپریل کے دوران بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بارش کے دوران تیز آندھی اور ژالہ باری بھی متوقع ہے۔ سندھ میں 6 تا 7 اپریل کراچی سمیت ہلکی تا معتدل بارش کا امکان ہے، جس دوران شہر میں گرج چمک، آندھی اور ژالہ باری بھی متوقع ہے۔
حکام نے کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور درختوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سیاحوں کو بھی پہاڑی علاقوں میں محتاط رہنے اور موسمی صورتحال سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ تیز ہواؤں اور آندھی کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، اور اربن فلڈنگ یا نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا بھی امکان موجود ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





