ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث بالائی علاقوں میں زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں۔
استور میں گزشتہ رات سے وقفے وقفے سے ہونے والی برفباری نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے، شہری گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ سڑکوں پر آمدورفت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اسکردو اور گردونواح میں بھی برفباری کے باعث بالائی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جہاں روزمرہ سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ دیر شہر میں برفباری نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، سیاحتی مقام کمراٹ اور لواری ٹنل میں دو فٹ تک برف جم چکی ہے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔
ڈوگدرہ اور کوہستان میں رابطہ سڑکیں بند ہیں جبکہ شہر میں رات سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے، جس سے شہریوں کو شدید سردی اور اندھیرے کا سامنا ہے۔ مالم جبہ میں تین فٹ جبکہ کالام میں ڈھائی فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ کوہستان میں پٹن ایف ڈبلیو کیمپ کے قریب راولپنڈی سے گلگت جانے والی متعدد بسیں برف میں پھنس گئیں، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ ہنزہ اور نگر میں بھی برفباری کے باعث مرکزی رابطہ سڑک بند ہو گئی ہے جبکہ وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب پشاور میں گزشتہ روز سے جاری بارش کا سلسلہ رک گیا ہے، تاہم گلیات اور مری میں رات کے وقت شدید برفباری ہوئی جس کے بعد پھلگراں ٹول پلازا سے مری جانے والی ہر قسم کی ٹریفک بند کر دی گئی۔ ادھر راولپنڈی اور اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






