اسلام آباد: بارش برسانے والا ایک طاقتور مغربی موسمی نظام پاکستان میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں شدید برفباری متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ مغربی سسٹم آج شام سے 24 جنوری تک بالائی علاقوں کو شدید طور پر متاثر کرے گا، جبکہ اس کے اثرات پنجاب، بلوچستان اور سندھ تک پھیلنے کا امکان ہے۔ پیشگوئی کے مطابق خیبرپختونخوا اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ سوات، چترال، بونیر، شانگلہ، دیر، مالاکنڈ، باجوڑ اور مردان میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
فیڈرل فلڈ کمیشن نے صوابی، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بٹگرام کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ این ڈی ایم اے نے بھی خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث دریائے کابل اور ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔ این ڈی ایم اے نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور حساس علاقوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع جن میں کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ اور نوشکی شامل ہیں، وہاں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مری اور گلیات سمیت گردونواح میں بھی آج شام سے بارش اور برفباری متوقع ہے، جبکہ کراچی سمیت سندھ کے ساحلی اور جنوبی علاقوں میں 22 اور 23 جنوری کو ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






