نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آج سے ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کے نئے اسپیل کے آغاز کے پیشِ نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے شدید بارشوں اور شہری و دریائی سیلاب کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
سندھ:
این ڈی ایم اے کے مطابق سندھ کے ساحلی اضلاع کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر میں 30 اگست تا 2 ستمبر کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث کراچی میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔ اندرونِ سندھ بشمول حیدرآباد، دادو، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد اور کشمور میں بھی 30 اگست تا 1 ستمبر موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔
پنجاب:
29 اگست تا 2 ستمبر اسلام آباد اور پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، اٹک اور دیگر اضلاع میں بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ وسطی و جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں بھی نشیبی علاقے زیرآب آنے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا:
29 تا 31 اگست خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں کا امکان ہے، جبکہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں چترال، دیر، سوات، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، ڈی آئی خان، ٹانک، کوہاٹ اور بنوں شامل ہیں۔
آزاد کشمیر و گلگت بلتستان:
مظفرآباد، باغ، حویلی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر میں 29 اگست تا 2 ستمبر کے دوران شدید بارشوں کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی 29 تا 31 اگست بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کا امکان ہے۔ متاثرہ اضلاع میں گلگت، سکردو، ہنزہ، دیامر، استور، غذر اور گانچھے شامل ہیں۔
بلوچستان:
بلوچستان کے ساحلی اور مشرقی اضلاع گوادر، کیچ، پنجگور، خضدار، لسبیلہ اور قلات میں 29 اگست تا 1 ستمبر بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کے نئے سلسلے کے نتیجے میں دریائے راوی، ستلج اور چناب کے ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں