پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اہم براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں، جہاں پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے حوالے سے ابہام تھا، تاہم پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ایرانی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ یہ بات چیت براہِ راست ہو رہی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اسے واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی میں اعلیٰ سطح کی اہم ترین ملاقات قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر موجود ہیں۔ ایرانی وفد کی نمائندگی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ماحول کبھی سخت اور کبھی نرم رہا، جبکہ یہ اہم نشست تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد وقفے پر ختم ہوئی۔ اس دوران پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات اب “ایکسپرٹ فیز” میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں تکنیکی ماہرین بھی مشاورت میں شامل ہیں۔

ان مذاکرات کو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 2015 میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا، جسے بعد میں 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ختم کر دیا تھا، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

پس منظر میں حالیہ 40 روزہ جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل ہے، جس کے بعد پاکستان نے سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کیا اور اب انہیں مذاکرات کی میز پر لے آیا ہے۔

اسلام آباد میں جاری ان مذاکرات کی عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ صحافیوں اور بین الاقوامی نمائندوں کی بڑی تعداد جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہے، جہاں سے انہیں بریفنگ فراہم کی جا رہی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close