جنگی صورتحال: وزراء، مشیران، افسران کی تنخواہوں، غیر ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، کفایت شعاری پالیسی منظور

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے جنگی صورتحال کے پیش نظر کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد قومی وسائل کا تحفظ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری کے لیے اجلاس ہوا، جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا۔ منظور شدہ فیصلے تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے۔

کفایت شعاری کے تحت مندرجہ ذیل اہم فیصلے کیے گئے ہیں:

نئی اشیا کی خریداری پر پابندی:
– جون 2026 تک نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
– آئی ٹی کی خریداری صرف نیشنل آئی ٹی بورڈ کی جانچ اور آسٹریٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔

سرکاری دوروں پر پابندی:
– کابینہ ارکان، ارکان پارلیمان اور سرکاری افسران کے غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
– ناگزیر دوروں کی صورت میں تمام حکومتی عہدیدار صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔
– یہ پابندی سرکاری یا ڈونر فنڈنگ سے ہونے والے تمام دوروں پر لاگو ہوگی۔

سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی:
– اگلے 2 ماہ کے لیے تمام سرکاری گاڑیوں کو ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔
– یہ کمی سرکاری بسوں، ایمبولینسز اور موٹر بائیکس جیسی آپریشنل گاڑیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔
– اس اقدام سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

سرکاری گاڑیوں کی خریداری اور استعمال میں کمی:
– وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دی جائیں گی۔
– جون 2026 تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

تنخواہوں میں کٹوتی:
– وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزراء، مشیر اور معاونین رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاؤنسز چھوڑ دیں گے۔
– تمام وفاقی و صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والے سرکاری افسران کی دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی کی جائے گی۔

غیر ترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی:
– تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
– اس کٹوتی سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

دیگر اقدامات:
– سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد کر دی گئی، صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز میں استثنیٰ ہوگا۔
– سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی۔
– ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔
– رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے اور آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
– اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close