سپریم کورٹ نے عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے۔ دو رکنی بینچ جس میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے، نے سماعت کی۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے کہا کہ فرینڈ آف کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں ایک جیسی معلومات موجود ہیں، اور رپورٹ کے پیراگراف نمبر 21 کا حوالہ دیا۔ عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی اور کھانے کی سہولیات پر اطمینان ظاہر کیا، تاہم طبی سہولیات غیر تسلی بخش تھیں اور انہوں نے ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کرنے کی درخواست کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں اور کسی کو نمایاں سہولت نہیں دی جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولیات 16 فروری تک فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔
عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں معائنہ کرنے کی استدعا مسترد کر دی، تاہم سلمان صفدر کی جانب سے مزید کتابیں فراہم کرنے کی سفارش پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر کی اجازت سے کتابیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اکتوبر 2025 تک 6/6 بینائی کے حامل تھے، لیکن بعد میں دائیں آنکھ سے دھندلا پن اور کم نظر آنے کی شکایت شروع ہوئی۔ آنکھ میں بلڈ کلاٹ کی وجہ سے نظر متاثر ہوئی اور ملاقات کے دوران آنکھ سے پانی آ رہا تھا۔
فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ سیل میں مچھر اور کیڑے مارنے کے اقدامات کیے جائیں، خوراک محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹر فراہم کیا جائے اور کتابیں فراہم کی جائیں تاکہ تنہائی اور ٹی وی کی عدم دستیابی کے اثرات کم ہوں۔
چیف جسٹس نے بیرسٹر سلمان صفدر کی ذمہ داری اور کردار کو سراہا اور کہا کہ حکومت بھی بانی پی ٹی آئی کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرنے پر سراہا گیا۔
اس دوران سماعت میں لطیف کھوسہ نے کیس کے مخصوص پہلوؤں پر دلائل دیے، جس پر چیف جسٹس نے ہائیکورٹس کے اختیارات کا احترام ظاہر کیا اور کہا کہ موجودہ حالات کے تحت مخصوص پہلوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






