مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں اکتیس نمازی شہید اور ساٹھ سے زائد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے مضافات میں مسجد میں خودکش دھماکا ہوا، حملے میں اکتیس معصوم نمازی شہید اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کو گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔
پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے واقعے کی جگہ پر موجود ہیں اور کارروائی جاری ہے، زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں شہید ہونے والوں میں آئی جی اسلام آباد کا کزن بھی شامل ہیں جبکہ دھماکے کے بعد اسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد ایک سو انہتر ہو گئی ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے اور دھماکے میں زخمی زیر علاج افراد کی عیادت کی۔ طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کے لیے خصوصی طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
صدر اور وزیر اعظم کی مذمت۔ صدر آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور صبر جمیل کی دعا کی۔ آصف زرداری نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا، ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیر اعظم نے ترلائی اسلام آباد میں امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار، اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے شہدا کی درجات بلندی اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔ وزیر اعظم نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






