ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گرفتار

سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو اسلام آباد کے سرینا چوک سے گرفتار کر لیا گیا۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹ جا رہے تھے کہ راستے میں یہ کارروائی عمل میں آئی۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد علی گیلانی کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ہائیکورٹ بار کی وین روک کر گرفتار کیا گیا، اور اس دوران وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔ وہ خود سیکرٹری بار منظور ججہ کے ہمراہ دیگر وکلاء کے ساتھ موجود تھے۔

واجد گیلانی نے بتایا کہ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وکلاء کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا اور راستے میں کسی قسم کی گرفتاری نہیں کی جائے گی، تاہم اس یقین دہانی کے باوجود سرینا ہوٹل کے قریب ان کی گاڑی کو روکا گیا۔ پولیس نے گاڑی کے شیشے توڑے اور ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو زبردستی گاڑی سے نکال کر گرفتار کیا، جبکہ دیگر وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔

واقعے کے بعد واجد گیلانی نے اعلان کیا کہ تمام وکلاء ستارہ مارکیٹ میں واقع ویمن پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوں۔ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے وکلا سے اپیل کی کہ وہ عدالتوں میں پیش نہ ہوں اور احتجاج کے لیے ویمن پولیس اسٹیشن پہنچیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close