سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی جعلی آواز بنا کر کسی سے پیسے مانگنے کی کوشش کی گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے بتایا کہ جب متاثرہ شخص نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے کوئی رقم نہیں مانگی تھی۔
اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی اعجاز الحق نے بتایا کہ ان کے پاس 19 چالان آئے ہیں، جن میں سے ایک کل موصول ہوا۔ اس پر ایم این اے عالیہ کامران نے سوال اٹھایا کہ یہ پیسے آخر کس اکاؤنٹ میں جاتے ہیں اور کتنے اکاؤنٹس کا پتہ لگایا گیا ہے۔
اس کے جواب میں طلال چوہدری نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اور تمام متعلقہ افراد کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ اختیار بیگ نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں سٹیٹ بینک کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ملک میں جعلی آواز کے ذریعے ہونے والی فراڈی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






