خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دو مختلف اور کامیاب کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ ان کارروائیوں میں شمالی وزیرستان اور ضلع کرم شامل ہیں۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا، جہاں سیکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کارروائی کے نتیجے میں 6 خوارج مارے گئے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ضلع کرم میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مزید 5 خوارج کو ہلاک کیا۔ ہلاک ہونے والے خوارج کا تعلق بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تھا۔
ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران خوارج کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ یہ عناصر دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رکھی جائے گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان اور پولیس کے جوان دن رات ملک دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ان کی موجودگی میں دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی اور قوم کی حمایت سے خوارجی عناصر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






